تاثیر نقوی ۔۔۔ عشق کی پھر سے داستاں لکھوں

عشق کی پھر سے داستاں لکھوں
ان بہاروں کو میں خزاں لکھوں

قدرِ انساں بدل رہی ہے یہاں
کیوں زمیں کو میں آسماں لکھوں

چھا گئے ہیں جہاں پہ سناٹے
کس طرح حالِ بے اماں لکھوں

ظلم اور جبر ہر طرف ہے یہاں
کیسے انساں کی داستاں لکھوں

ہو گیا ہے لہو لہو گلشن
زندگی کو میں خونچکاں لکھوں

قتل ارمان کا ہوا ہے جہاں
اُس کو میں کیسے گُلستاں لکھوں

کاٹے کٹتی نہیں یہ تنہائی
ہجر کو کس کی میں زباں لکھوں

میرا وجدان جگمگا اُٹھے
جب مکاں کو میں لامکاں لکھوں

ایک اندیشہ ہے نیا ہر روز
روگ اپنا بھلا کہاں لکھوں

اُس کے وعدے وعید کو تاثیر
میں اگر وقت کا زیاں لکھوں

Related posts

Leave a Comment